ایک چھوٹے سے گاؤں میں احمد نامی لڑکا رہتا تھا۔ وہ بہت محنتی تھا لیکن اکثر مایوس ہو جاتا تھا کیونکہ اسے اپنی محنت کا پھل فوری طور پر نہیں ملتا تھا۔ ایک دن احمد اپنے دادا کے پاس گیا اور کہا، “دادا، میں دن رات محنت کرتا ہوں لیکن پھر بھی مجھے کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔ کیا میری محنت کبھی رنگ لائے گی؟”
دادا نے مسکرا کر احمد کو ایک چھوٹا سا پودا دیا اور کہا، “بیٹا، اسے روزانہ پانی دو اور دیکھو کیا ہوتا ہے۔” احمد نے پودے کو روزانہ پانی دینا شروع کیا لیکن کئی دنوں تک اس میں کوئی خاص تبدیلی نظر نہیں آئی۔ وہ مایوس ہو گیا اور دادا سے شکایت کی، “دادا، یہ پودا بڑھ ہی نہیں رہا۔ شاید میری محنت بیکار جا رہی ہے۔”
دادا نے نرمی سے جواب دیا، “بیٹا، صبر کرو۔ کچھ چیزوں کو وقت لگتا ہے۔ تمہیں اپنی محنت جاری رکھنی ہے، نتائج آہستہ آہستہ آئیں گے۔”
احمد نے دادا کی بات مانی اور پودے کو پانی دینا جاری رکھا۔ کچھ ہفتوں بعد، اس پودے میں نئی کونپلیں نکلنے لگیں اور آہستہ آہستہ وہ بڑا اور سرسبز ہو گیا۔
دادا نے مسکراتے ہوئے کہا، “دیکھا بیٹا، تمہاری محنت نے اپنا پھل دیا۔ زندگی میں بھی ایسے ہی ہوتا ہے۔ کبھی کبھار نتائج دیر سے ملتے ہیں، لیکن اگر ہم محنت اور صبر سے کام کریں، تو کامیابی ضرور ملتی ہے۔”
سبق: محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی، بس ہمیں صبر اور مستقل مزاجی سے کام کرنا چاہیے۔
